ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل: مچھروں کی بھرمار سے ڈینگو کا خطرہ : نتیجہ خیز اقدامات کی ضرورت  

بھٹکل: مچھروں کی بھرمار سے ڈینگو کا خطرہ : نتیجہ خیز اقدامات کی ضرورت  

Tue, 08 Dec 2020 19:05:27    S.O. News Service

بھٹکل:8؍دسمبر (ایس اؤ نیوز) اب جب کہ کورونا کسی حد تک کنٹرول میں آرہاہے  مگر اب  اترکنڑا ضلع میں ڈینگو کے معاملات سامنے آنے  سے عوام خوف میں مبتلا ہورہےہیں۔ بھٹکل سمیت  ضلع اُترکنڑا اس وقت مچھروں کا گڑھ بنتا جارہاہے اور اس پر قابو پانے کےلئے کسی بھی طرح کے اقدامات نظر نہیں آرہےہیں، عوام میونسپالٹی اور پنچایت حکام پر زور دے رہےہیں کہ  کسی بھی طرح مچھروں پر قابو پانے کےلئے اقدامات کئے جائیں۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق کورونا کے بعد اب پھر ایک بار ضلع میں مچھروں کی وجہ سے ڈینگو کا خطرہ بڑھ رہا ہے، کاروار کے ہائی چرچ روڈ کے دومکین ڈینگو سے متاثر پائے گئے ہیں، اس میں ایک  کاروار  میں دودھ بیچنے والا  فرد  شامل ہے   تو اس کے پڑوس کے گھر کی ایک عورت کو بھی ڈینگوہواہے۔  

دس دن پہلے ڈانڈیلی میں بھی دو لوگ ڈینگو مرض میں مبتلا دیکھے گئے تھے۔ کاروار کے ہائی چرچ روڈ کے مکینوں میں ڈینگو مرض پھیلنے کے خدشے کو لے کر صحت عامہ کا عملہ وہاں پہنچ کر سروے اورمعائنہ کیا ہے۔ پتہ چلا ہے  کہ متعلقہ علاقے میں ایک کامپلکس کی تعمیر کاکام چل  رہاہے، جہاں اڑیسہ ریاست کے مزدور معماری کا کام کررہے ہیں، ان میں سے کسی کو ڈینگو  ہوا ہے، انہیں جس مچھر نے کاٹا ہے اسی مچھر کی وجہ سے شہر میں ڈینگو پھیلنےکا ضلع صحت عامہ محکمہ کے افسر ڈاکٹر رمیش راؤ نے شبہ ظاہر کیا ہے۔ اسی پس منظر کو لے کر کہا گیا ہے کہ  لیبر کالونی کے سبھی تعمیراتی مزدوروں  کی صحت کی جانچ کی جائے گی  اور ہائی چرچ روڈ، گاندھی نگر، پرانا کے ایچ بی روڈ جیسے علاقوں میں بھی ڈینگو کا سروے کئے جانے کی جانکاری دی  ہے۔

مچھروں پر  کنڑول دقت بھرا ہے :کاروار  میں مچھروں کوکنڑول کرنے کے لئے کئی ساری کارروائیاں انجام دی گئی ہیں اور دی جارہی ہیں مگر کنڑول ممکن نہیں ہوپارہاہے۔ مچھروں کا لاروا برباد کرنے کے لئے ایک قسم کی مچھلی کا بھی استعمال کیا جارہاہے جس کا نتیجہ ظاہر ہونےکے لئے کچھ وقت لگے گا۔ شہر میں گلیوں کے تنگ راستوں  اور نکڑ کی نالیاں مچھروں کے اڈے بن گئے ہیں۔ جہاں جہاں گندہ پانی بہتا رہتاہے وہاں مچھر حدسے زائد ہوگئےہیں، جب کہ محکمہ کی جانب سے بائیوڈارٹ نامی کیمکل کا چھڑکاؤ کیا جارہاہے ، مگر بتایا جارہا ہے کہ یہ بہت مہنگا کمیکل ہے۔ بائیوڈارٹ کیمکل فی کلو 1200روپئے ہے تو 12لیٹر پانی میں آدھا کلو  کیمکل ملانا ہوتاہے۔ نکڑنالیوں پر اس کا چھڑکاؤ کرنا معاشی طورپر مہنگا ہے۔

ماہرین کا کہناہے کہ کچھ سال پہلے  نکڑنالیوں کے پانی کو تقطیر کا طریقہ اپناکر پاک صاف کرنے کا منصوبہ بنایاگیاتھا، اب یہ کئی وجوہات کی بنا پر فائل کی زینت بنا ہواہے۔ اس سلسلے میں عوام کے لئے بھی لازمی ہے کہ وہ نالیوں  میں  کچرا نہ پھینکیں اور پانی کو جمع ہونے نہ دیں تاکہ پانی آگے کی طرف  بہتا چلا جائے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ  جن گھروں سے گندے پانی کابہاؤ ہورہاہے ان کے خلاف میونسپالٹی والوں کو سخت کارروائی کرنی چاہئے، اسی طرح میونسپالٹی اور پنچایت کی طرف سے  علاقہ در علاقہ فوگنگ کرکے مچھروں پر قابو پانا چاہئے۔ بہرحال بھٹکل  ، کاروار یا ضلع کا کوئی بھی تعلقہ ہو، ، ان علاقوں میں   مچھروں کو کنڑول کرنے کے لئے نتیجہ خیز اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


Share: